پاکستان کی سیاست کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی اور جہاں بھی لکھی جائے گی، اس میں مولانا کا تذکرہ ایک جزو لازم اور ایک ذکی، ذہین اور ماہرِ سیاسیات کے طور پر کیا جائے گا.ایک ایسے وقت میں جمیعت کی قیادت سنبھالنا، جبکہ ہر طرف سے مصائب ٹوٹ پڑے ہو اور غیر ہی نہیں، اپنے بھی چراغ بجھانے کی کوششوں میں لگے ہو اور سیاسی آمر مخالفت پر کمربستہ ہو، ایسے میں نظرئے اور محض نظرئے کی سیاست کو رجحان دینا اور اس خاطر قید وبند کی سہولت اختیار کرنا انہی پر جچتا ہے.
پھر وقت کے ساتھ ساتھ مولانا نے وہ سیکھا، جسے ان کے ساتھی سیاستدانوں نے نظرانداز کئے رکھا تھا، یعنی منفی سیاست کو چھوڑ کر، مثبت انداز جہت اختیار کرنا اور اپنے نظرئے اور مقصد کے حصول کی خاطر حکومت کا حصہ بن کر کام کرنا.
بظاہر یہ مولانا کے اوپر اعتراض کے طور پر کہا جاتا ہے کہ مولانا ہرحکومت کا حصہ ہوتے ہیں.! یہ مگر کون نہیں جانتا کہ ہر سیاسی پارٹی حکومت حاصل کرکے اپنے نظرئے اور منشور کو عام کرنے کے لئے بنائی جاتی ہے!
دنیا میں وہ کونسی پارٹی ہے، جو یہ کہے کہ اس کا مقصد حکومت نہیں، اپوزیشن میں بیٹھنا ہے اور اُدھر سے اپنے منشور کو چلانا ہے؟
ظاہر ہے ہر ایک پارٹی کا یہی سمجھنا ہے اور اسی کے لئے وہ ساری کوشش ہوتی ہے، جو پارٹیاں کرتی ہیں اور وہ ساری جوڑ توڑ، جس کا کچھ ٹریلر ہماری قوم نے حالیہ سینٹ انتخابات میں دیکھا ہے.

تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔