امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں سب سے زیادہ غربت ، تاثر دیا جاتا ہے کہ صوبہ میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ جمہوریت کے دعوے دار خاندان سیاسی پارٹیاں چلاتے ہیں ، مسلط حکمران مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بناتے ، انہیں عوام کی طاقت سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں افطار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام جماعت اسلامی لاہور کے رہنما ملک شاہد اسلم نے کیا تھا۔ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔
توانائی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں نے ایک سال میں آئی پی پیز کے مالکان دو ہزار ارب روپے دیے ، پانچ سو ارب سے پورے ملک میں تعلیم مفت فراہم کی جاسکتی ہے، فارم سنتالیس کے حکمران غیر مقبول بھی ہیں اور انہیں عوام کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ آئی پی پیز کو عوام اس بجلی کے بھی پیسے ادا کر رہے ہیں جو بنتی ہی نہیں، یہ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عید کے بعد عوام کے حقوق کی تحریک میں مزید تیزی لائے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں ہمیں خدا کا خوف رکھنا چاہیے اور رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کا عہد کر کے قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانا ہوگا تاکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ صبح شام اللہ کے احکامات توڑتے ہیں مگر دنیا کے سامنے مذہبی بن کر رہتے ہیں، جبکہ دین کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی عملی زندگی میں بھی اللہ کے احکامات کی پابندی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہِ رمضان میں قرآن پاک کے ساتھ جڑ کر زندگی کو بدلا جا سکتا ہے اور پاکستان کی بنیاد ہی اس وعدے پر رکھی گئی تھی کہ یہاں قرآن کا نظام نافذ ہوگا۔

تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔